دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 126

۱۲۶ جن کو نشان حضرتِ باری ہوا نصیب وہ اس جناب پاک سے ہر دم ہوئے قریب کھینچے گئے کچھ ایسے کہ دُنیا سے سو گئے! کچھ ایسا نور دیکھا کہ اُس کے ہی ہو گئے ان دیکھے کیسے پاک ہو انساں گناہ سے اس چاہ سے نکلتے ہیں لوگ اُس کی چاہ سے تصویر شیر سے نہ ڈرے کوئی گوسپند نے مارِ مُردہ سے ہے کچھ اندیشہ گزند پھر وہ خدا جو مُردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا اُمید ایسے سے اور خوف اُس سے کیا ایسے خدا کے خوف سے دل کیسے پاک ہو سینہ میں اس کے عشق سے کیونکر تپاک ہو دن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حُسن و جمال یار کے آثار ہی سہی