دُرِّثمین اُردو — Page 127
۱۲۷ جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو کچھ دل میں ڈر نہیں سو روگ کی دوا یہی وصلِ الہی ہے اس قید میں ہر ایک گنہ سے رہائی ہے پر جس خدا کے ہونے کا کچھ بھی نہیں نشاں کیونکر شار ایسے پہ ہو جائے کوئی جاں ہر چیز میں خدا کی ضیاء کا ظہور ہے پر پھر بھی غافلوں سے وہ دلدار دُور ہے جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا اے آزمانے والے! یہ نسخہ بھی آزما عاشق جو ہیں وہ یار کو مر مر کے پاتے ہیں راه تنگ جب مر گئے تو اُس کی طرف کھینچے جاتے ہیں ہے پہ پہ یہی ایک راہ ہے دلبر کی مرنے والوں پہ ہر دم نگاہ ہے ناپاک زندگی ہے جو ڈوری میں کٹ گئی دیوار زہد خشک کی آخر کو پھٹ گئی