دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 82

۸۲ آخر یہ آدمی تھے پھر کیوں ہوئے درندے کیا کون ان کی بگڑی یا خود قضا یہی ہے جس آریہ کو دیکھیں تہذیب سے ہے عاری رکس رکس کا نام لیویں ہر سُو وبا یہی ہے لیکھو کی بدزبانی کارڈ ہوئی تھی اس پر پھر بھی نہیں سمجھتے حمق و خطا یہی ہے اپنے کیے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا پایا آخر خدا کے گھر میں بد کی سزا یہی ہے نبیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دینا کتوں سا کھولنا منہ تخم فنا یہی ہے میٹھے بھی ہو کے آخر نشتر ہی ہیں چلاتے ان تیره باطنوں کے دل میں دعا یہی ہے جاں بھی اگر چہ دیویں ان کو بطور احساں عادت ہے ان کی گراں رنج دعنا نہیں ہے ہندو کچھ ایسے بگڑے دل پر ہیں بلخص و کہیں سے ہر بات میں ہے تو ہیں طرزِ ادا یہی ہے