دُرِّثمین اُردو — Page 35
۳۵ کہاں ہیں جو الفت سے سرشار ہیں جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں کہاں ہیں جو وہ بخل سے دور ہیں محبت سے نانک کی معمور ہیں کہاں ہیں جو اس رہ میں پر جوش ہیں گرو کے تعشق میں مدہوش ہیں کہاں ہیں وہ نانک کے عاشق کہاں کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں کہاں ہیں جو بھرتے ہیں اُلفت کا دم اطاعت سے اطاعت سے سر کو بنا کر قدم گرو جس کے اس رہ پہ ہوویں فدا وہ چیلا نہیں جو نہ دے سر جھکا اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل تو پھر ہاتھ مل مل کے رونا ہے کل نہ مردی ہے تیر اور تلوار بنو مرد مردوں کے کردار سنو! آتی ہے ہر طرف سے صدا کہ باطل ہے ہر چیز حق کے سوا کوئی دن کے مہماں ہیں ہم سب سبھی خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی گرو نے یہ چولہ بنایا شعار دکھایا کہ اس رہ پہ ہوں میں شار وہ کیونکر ہو ان ناسعیدوں سے شاد جو رکھتے نہیں اُس سے کچھ اعتقاد اگر مان لو گے گرو کا یہ واک تو راضی کرو گے اُسے ہو کے پاک وہ احمق ہیں جو حق کی رہ کھوتے ہیں عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں