دُرِّثمین اُردو — Page 21
چولہ بابا نانک یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج یہی کابلی مل کے گھر میں ہے آج یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے جو ڈور اس سے اُس سے خدا دور ہے یہی جنم ساکھی میں مذکور ہے جو انگد سے اس وقت مشہور ہے اسی پر وہ آیات ہیں بینات کہ جن سے ملے جاودانی حیات یہ نانک کو خلعت ملا سرفراز خدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز اسی سے وہ سب راز حق پا گیا اسی سے وہ اسی سے وہ حق کی طرف آ گیا اسی نے بلا سے بچایا اُسے ہر اک بد گہر سے چھڑایا اُسے ذرا سوچو سکھو! یہ کیا چیز ہے؟ یہ اُس مرد کے تن کا تعویذ ہے یہ اُس بھگت کا رہ گیا اک نشاں نصیحت کی باتیں حقیقت کی جاں گرنتھوں میں ہے شک کا اک احتمال کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے رہے خدا جانے کیا کیا بناتے رہے گماں ہے کہ نفلوں میں ہو کچھ خطا کہ انساں نہ ہووے خطا سے جدا مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقیں وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں اسے سر پہ رکھتے تھے اہل صفا تذلّل سے، سے، جب پیش آتی بلا ! جو نانک کی مدح و ثنا کرتے تھے وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے