دُرِّثمین اُردو — Page 13
الله اُن کو سودا ہوا ہے ویدوں کا اُن کا دل مبتلا ہے ویدوں کا آریو! اس قدر کرو کیوں جوش کیا نظر آ گیا ہے ویدوں کا؟ نہ کیا ہے نہ کر سکے پیدا سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا؟ بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا ناستک مت کے وید ہیں حامی بس یہی مدعا ہے ویدوں کا ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا سرمه چشم آریہ صفحہ ۱۷۲ - مطبوعہ ۱۸۸۶ء 500