دُرِّثمین اُردو — Page 123
۱۲۳ کوئی بتائے ہم کو کہ غیروں میں یہ کہاں قصوں کی چاشنی میں حلاوت کا کیا نشاں یہ ایسے مذہبوں میں کہاں ہے دکھائیے ور نہ گزاف قصوں پر ہرگز نہ جائیے جب سے کہ قصے ہو گئے مقصود راہ میں آگے قدم ہے قوم کا ہر دم گناہ میں تم دیکھتے ہو قوم میں عفت نہیں رہی وہ ده صدق، وہ صفا، وہ طہارت نہیں رہی مومن کے جو نشاں ہیں وہ حالت نہیں رہی اُس یارِ بے نشاں کی محبت نہیں رہی اک سیل چل رہا ہے گناہوں کا زور سے سنتے نہیں ہیں کچھ بھی معاصی کے شور سے کیوں بڑھ گئے زمیں پر بُرے کام اس قدر کیوں ہو گئے عزیزو! یہ سب لوگ کور وکر کیوں اب تمہارے دل میں وہ صدق و صفا نہیں کیوں اس قدر ہے فسق کہ خوف و حیا نہیں