دُرِّثمین اُردو — Page 122
۱۲۲ ققوں سے پاک ہونا کبھی کیا مجال ہے سچ جانو یہ طریق سراسر محال ہے ققوں سے کب نجات ملے ہے گناہ سے ممکن نہیں وصال خدا ایسی راہ سے مُردہ سے کب اُمید کہ وہ زندہ کر سکے اُس سے تو خود محال کہ رہ بھی گذر سکے وہ رہ جو ذاتِ عزّ وجل کو دکھاتی ہے وہ کہ جو دل کو پاک و مطہر بناتی ہے دہ رہ، جو یار گم شدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے وہ رہ جو جامِ پاک یقیں کا پلاتی ہے وہ تازہ قدرتیں جو خدا پر دلیل ہیں وہ زندہ طاقتیں جو یقیں کی سبیل ہیں ظاہر ہے یہ کہ قصوں میں ان کا اثر نہیں افسانہ گو کو راہِ خدا کی خبر نہیں اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی نشاں سے ہے سچ ہے کہ سب ثبوتِ خدائی نشاں سے ہے