دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 121

۱۲۱ ملتی نہیں عزیزو! فقط قصوں سے یہ راہ وہ روشنی نشانوں سے آتی ہے گاہ گاہ وہ لغو دیں ہے جس میں فقط قصہ جات ہیں اُن سے رہیں الگ جو سعید الصفات ہیں صد حیف اس زمانہ میں قصوں پہ ہے مدار قصوں پہ سارا دیں کی سچائی کا انحصار پر نقد معجزات کا کچھ بھی نشاں نہیں پس یہ خُدائے قصہ خُدائے جہاں نہیں دنیا کو ایسے قصوں نے یک سر تبہ کیا! مشرک بنا کے کفر دیا روسیه کیا جس کو تلاش ہے کہ ملے اُس کو کردگار اُس کے لئے حرام جو قصوں پہ ہو نثار اُس کا تو فرض ہے کہ وہ ڈھونڈے خدا کا نور تا ہووے شک و شبہ بھی اس کے دل سے دُور تا اُس کے دِل پہ نور یقیں کا نزول ہو تا وہ جناب عز وجل میں قبول ہو