دُرِّثمین اُردو — Page 118
۱۱۸ مقصود ان کا جینے سے دُنیا کمانا ہے مومن نہیں ہیں وہ کہ قدم فاسقانہ ہے تم دیکھتے ہو کیسے دلوں پر ہیں اُن کے زنگ دنیا ہی ہوگئی ہے غرض، دین سے آئے ننگ وہ دیں ہی چیز کیا ہے کہ جو رہنما نہیں ایسا خدا ہے اس کا کہ گویا خدا نہیں پھر اُس سے سچی راہ کی عظمت ہی کیا رہی اور خاص وجہ صُفُوتِ مِلّت ہی کیا رہی نور خدا کی اس میں علامت ہی کیا رہی توحید خشک رہ گئی نعمت ہی کیا رہی لوگو سُنو! کہ زندہ خدا وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں مُردہ پرست ہیں وہ جو قصہ پرست ہیں پس اس لئے وہ موردِ ذِلّ و شکست ہیں بن دیکھے دل کو دوستو! پڑتی نہیں ہے کل ققوں سے کیسے پاک ہو یہ نفس پرخلل