دُرِّثمین اُردو — Page 117
112 جو معجزات سنتے ہو قصوں کے رنگ میں اُن کو تو پیش کرتے ہیں سب بحث و جنگ میں جتنے ہیں فرقے سب کا یہی کاروبار ہے قصوں میں معجزوں کا بیاں بار بار ہے پر اپنے دیں کا کچھ بھی دکھاتے نہیں نشاں گویا وہ ربّ ارض و سما آب ہے ناتواں گویا اب اس میں طاقت و قدرت نہیں رہی وہ سلطنت، وہ زور، وہ شوکت نہیں رہی یا یہ کہ اب خدا میں وہ رحمت نہیں رہی نیت بدل گئی ہے وہ شفقت نہیں رہی ایسا گماں خطا ہے کہ وہ ذات پاک ہے ایسے گماں کی نوبت آخر ہلاک ہے بیچ ہے یہی کہ ایسے مذاہب ہی مر گئے اب اُن میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گذر گئے پابند ایسے دنیوں کے دُنیا پرست ہیں غافل ہیں ذوقِ یار سے دُنیا میں مست ہیں