دُرِّثمین اُردو — Page 116
قرآں خدا نُما ہے خدا کا کلام ہے! بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے جو لوگ شک کی سردیوں سے تھر تھراتے ہیں اس آفتاب سے وہ عجب دُھوپ پاتے ہیں دنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شور و شر سب قصہ گو میں نور نہیں ایک ذرہ بھر پر یہ کلام نور خدا کو دکھاتا ہے اُس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے جس دیں کا صرف قصوں پہ سارا مدار ہے وہ دیں نہیں ہے ایک فسانہ گزار سچ پوچھئے تو قصوں کا کیا اعتبار ہے ہے قصوں میں جُھوٹ اور خطا بے شمار ہے ہے دیں وہی کہ صرف وہ اک قصہ گو نہیں زندہ نشانوں سے ہے دکھاتا رہ یقیں ہے دیں وہی کہ جس کا خدا آپ ہو عیاں خود اپنی قدرتوں سے دکھاوے کہ ہے کہاں