دُرِّثمین اُردو — Page 113
۱۱۳ لوح مزار میرزا مبارک احمد (نوشته ماه ستمبر ۱۹۰۷ء ) جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک ٹھو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو خر میں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا " بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر 000 جامبارک تجھے فردوس مبارک ہووے 66 میں جو غلام احمد نام خدا کا مسیح موعود ہوں۔مبارک احمد جس کا اوپر ذکر ہے میرالڑ کا تھا وہ بتاریخ ے شعبان ۱۳۲۵ھ مطابق ۶ استمبر ۱۹۰۷ء بروز دوشنبه بوقت نماز صبح وفات پا کر الہامی پیشگوئی کے موافق اپنے خدا کو جاملا۔کیونکہ خدا نے میری زبان پر اس کی نسبت فرمایا تھا کہ وہ خدا کے ہاتھ سے دنیا میں آیا ہے اور چھوٹی عمر میں ہی خدا کی طرف واپس جائے گا۔۱۲۔منہ بمطابق روایت حضرت میر محمد اسمعیل صاحب ( سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۵۲۸) خطبات محمود جلد اول صفحه ۸۳ خطبہ عید الفطر فرمودہ حضرت مصلح موعود - مؤرخہ ۶ مئی ۱۹۲۴ ء قادیان