دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 72

۷۲ جوش صداقت کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال دل میں آتا ہے میرے سو سو اُبال آنکھ تر ہے دل میں میرے درد ہے کیوں دلوں پر اس قدر یہ گرد ہے بخار دل ہوا جاتا ہے ہر دم بے قرار کس بیاباں میں نکالوں درد سے زیر و زبر کر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر ہو گئے آسماں ہم پر غافلو اک جوش ہے کچھ تو دیکھو گر تمہیں کچھ ہوش ہے ہو گیا دیں کفر کے حملوں سے چور چُپ رہے کب تک خداوند غیور اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے بدگماں کیوں ہو خدا کچھ یاد ہے افترا کی کب تلک بنیاد ہے وہ خدا میرا جو ہے جو ہر شناس اک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس لعنتی لعنتی ہوتا ہے مرد مفتری یہ سروری کو کب ملے کرکے کرکے آپ کے اعجاز احمدی صفحه ۳۲۔مطبوعہ ۱۹۰۲ء