دُرِّثمین اُردو — Page 178
۱۷۸ کب یہ ہوگا ؟ یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایام بہار پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لواے ہوشیار یاد کر فرقاں سے لفظ زُلْزِلَتْ زِلْزَالَهَا ایک دن ہو گا وہی جو غیب سے پایا قرار سخت ماتم کے وہ دن ہو نگے مصیبت کی گھڑی لیک وہ دن ہونگے نیکوں کیلئے شیریں ثمار آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائینگے جو کہ رکھتے ہیں خُدائے ذوالعجائب سے پیار انبیاء سے بغض بھی اے غافلو! اچھا نہیں دُور تر ہٹ جاؤ اس سے ہے یہ شیروں کی کچھار کیوں نہیں ڈرتے خدا سے کیسے دل اندھے ہوئے بے خدا ہرگز نہیں بدقسمتو ! کوئی سہار یہ نشانِ آخری ہے کام کر جائے مگر ورنہ اب باقی نہیں ہے تم میں امید سُدھار آسماں پر ان دنوں قہر خدا کا جوش ہے کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہونہار اس نشاں کے بعد ایماں قابلِ عزت نہیں ایسا جامہ ہے کہ نو پوشوں کا جیسے ہو اُتار اس میں کیا خوبی کہ پڑ کر آگ میں پھر صاف ہوں خوش نصیبی ہو اگر اب سے کرو دل کی سنوار اب تو نرمی کے گئے دن اب خدائے خشمگیں کام وہ دکھلائے گا جیسے ہتھوڑے سے کہا رے اُس گھڑی شیطان بھی ہوگا سجدہ کرنے کو کھڑا دل میں یہ رکھ کر کہ حکم سجدہ ہو پھر ایک بار یادر ہے کہ جس عذاب کے لئے یہ پیشگوئی ہے اُس عذاب کو خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ کے لفظ سے بیان کیا ہے اگر چہ بظاہر وہ زلزلہ ہے اور ظاہر الفاظ یہی بتاتے ہیں کہ وہ زلزلہ ہی ہوگا ، لیکن چونکہ عادتِ الہی میں استعارات بھی داخل ہیں اس لئے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ غالباًا تو وہ زلزلہ ہے ورنہ کوئی اور جانگداز اور فوق العادت عذاب ہے جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کی بار بار شائع کرنے کی اسی وجہ سے ضرورت پیش آئی ہے جو پہلے زلزلہ کی خبر جو اچھی طرح شائع نہیں کی گئی اس سے بہت سی جانوں کا نقصان ہوا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ دوسری پیشگوئی میں جو زلزلہ کے بارے میں ہے جہاں تک میری طاقت ہے لوگوں کو خبر کر دوں تا شاید میری بار بار کی اشاعت سے لوگوں کے دل میں صلاحیت کا خیال پیدا ہو جائے اور اس عذاب کے ٹلنے کے لئے اس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی عیسائی ہو یا ہندو یا مسلمان ہو یا کوئی شخص ہماری بیعت کرے۔ہاں یہ ضرورت ہے کہ لوگ نیک چلنی اختیار کریں اور جرائم پیشہ ہونا چھوڑ دیں۔منہ