دُرِّثمین اُردو — Page 177
122 پیش گوئی جنگ عظیم یہ نشان زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دن وہ تو اک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار فاسقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دُشوار ہے جس سے قیمہ بن کے پھر دیکھیں گے قیمہ کا بگھار خوب کھل جائیگا لوگوں پہ کہ دیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیر تھ کعبہ ہے یا ہر دوار وحی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ ایک ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روز شمار یہ جو طاعوں ملک میں ہے اسکو کچھ نسبت نہیں اُس بلا سے وہ تو ہے اک حشر کا نقش و نگار وقت ہے تو بہ کرو جلدی مگر کچھ رحم ہو! سُست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کوکنار تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اس وقت سے جس سے پڑ جائیگی اک دم میں پہاڑوں میں بغار پڑ وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک دم میں غم کردے ہو جائینگے عشرت کدے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہوکر سوگوار وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصر بریں پست ہو جائینگے جیسے پست ہو اک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں اُن کو جو جھکتے ہیں اس درگہ پہ ہو کر خاکسار یہ خوشی کی بات ہے سب کام اُس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمرزگار