دُرِّثمین اُردو — Page 101
1+1 پیارو! روا ہرگز نہیں ہے خدا وہ ہے رب العالمیں ہے اگر یہ ایسی بات منہ سے مت نکالو خطا کرتے ہو ہوش اپنے سنبھالو اگر ہر ذرہ اُس بن خود عیاں ہو تو ہر ذرے کا وہ مالک کہاں ہو اگر خالق نہیں رُوحوں کی وہ ذات تو پھر کا ہے کی ہے قادر وہ ہیہات خدا پر عجز و نقصاں کب روا ہے ہے دیں یہی پھر گفر کیا ہے اگر اس بن بھی ہو سکتی ہیں اشیاء تو پھر اُس ذات کی حاجت رہی کیا اگر سب شئے نہیں اُس نے بنائی تو بس پھر ہو چکی اُس سے خدائی اگر اس میں بنانے کا نہیں زور تو پھر اتنا خُدائی کا ہے کیوں شور نا کامل خدا ہو گا کہاں سے کہ عاجز ہو بنانے جسم و جاں سے کہ جس سے جنگت رُوحوں کا جُدا ہے وہ ذرا سوچو کہ وہ کیسا خدا ہے سدا رہتا ہے ان رُوحوں کا محتاج انہیں سب کے سہارے پر کرے راج جسے حاجت رہے غیروں کی دن رات بھلا اس کو خدا کہنا ہی کیا بات جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی کہاں من من کا ہو انتر گیانی اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند تو پھر سوچو ذرا ہو کے خردمند کہ جس دم پا گئی مکتی ہر اک جاں تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں کہاں سے لائے گا وہ دوسری رُوح کہ تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح غرض جب سب نے اس مکتی کو پایا تو ایشر کی ہوئی سب ختم مایا