دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 102

۱۰۲ تناسخ اُڑ گیا آئی قیامت کرو کچھ فکر اب حضرت سلامت عزیز و کچھ نہیں اس بات میں جاں اگر کچھ ہے تہ دکھلاؤ بمیداں بہت ہم نے بھی اس میں زور مارا خیالستاں کو جانچا ہے سارا مگر ملتی نہیں کوئی بھی بُرہاں بھلا سچ کس طرح ہو جائے بہتاں یہ باتیں کہے جاں آفریں پر نہ ہو گا کوئی ایسا مث زمیں پر کہ دُعا کرتے رہو ہر دم پیارو ہدایت کے لیے حق کو پکارو دعا کرنا عجب نعمت ہے پیارے دعا سے آ لگے کشتی کنارے اگر اس محل کو طالب لگائے تو اک دن ہو رہے برتھا نہ جائے ہمارا کام تھا وعظ و منادی سو ہم سب کر چکے وَالـــلــــه بادی الراقم مرزا غلام احمد رئیس قادیان الثامن من الشهر المبارك المحرم باركه الله لجميع المؤمنين ۱۲۹۵ هجرى المقدس على صاحبه الصلواة و السلام ا منشور محمدی بنگلور ۱۸۷۵ء مطابق ۱۵ ربیع الثانی ۱۲۹۵ھ