دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 88
هر چه اندازوت بریار جدا باش نہ انجمہ کاروبار جدا چاند تجھے جو چیزیں یار سے چیزیں یار سے الگ کرتی ہیں۔تو اُن سب سے علیحدہ ہو جا اخراب شیره سرکشی تا چند کسی از دلدار جلد پوند آنا ہے یہ کردار تو کب تک سرکشی کرنے کا کیا کوئی دلدار سے بھی تعلق توڑ کرتا ہے؟ رت دل را بتاب از اختیار باش مردم بجستجوئے نگار غیروں کی طرف سے اپنا دل پھیر ہے۔اور ہردم مجوب کی تلاش میں رہ ر و بدون می رو پر کن گردو برش با دست همه رو باخدائے دلدار من ست اسی کی رات ایانه کویر که مجوب کا چر میں تمہیں دیر ہے اور سب چہرے میں دلا پر قربان ہیں تو به دل از خود تا این تو در و محو شو بقا این است کو تو اپنی خودی سے باہر آ کہ یہی تھا ہے اور اس میں محو ہو جا کہ یہی بقا ہے کہ ر که فاقل ته دات پیچون ست الد ینه دانا که سخت مجنون است جو اس بے مثل ذات سے فاضل ہے وہ عقلمند نہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے ت کے رو بتابی از شیخ دوست دیگری را نشان رہی کہ چو اوست تو کب تک دوست سے روگرداں رہے گا۔کسی اور کا تپہ بنتا جو اس بھیا ہو۔در دو عالم نظیر یار کجا : عاشقان را بغیر کار کجا دونوں جہان میں یار کی نظیر نہیں ملتی۔اس کے عاشقوں کو غیر سے کیا کام و بدل آن بوشق افروخت دوستان مانده غیرارو به سوخت جہول میں عشق کی آگ بھر کی تو مجبوب رہ گیا اور اس کے سوا سب کچھ جل گیا