دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 81

Al تن چه فرسود داستان آمد دل چو از دست رفت جان آمد جمن جسم کمزور ہو گیا تو محبوب اگیا جب دل ہاتھ سے نکل گیا تو جان لینی محسوب مل گیا عشق دلبر روئے شمال بارید در رحمت ہوئے شان بارید دلیر کی محبت ان کے چھت پر ظاہر ہو گئی۔اور رحمت کا ابر اُن کے گلی کوچوں میں برسا ہست ہیں تو مر یاک را جا ہے کہ ندارد جال بدو رہا ہے اس پاک قوم کی وہ عزت ہے ، کہ ساری دنیا بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی ! دست بر دعا چو بردارند مورد فیض ہائے دا داراند پھر جب وہ ڈھا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو خدائی فیوض کے مورد بن جاتے ہیں کشف راز سے گر از خدا خواهند هم از حضرت شهنشاه اند اگر منا سے کسی راز کا کشف چاہتے ہیں۔تو حضور مداوندی سے امام کیے جاتے ہیں کس پسر وقت شمال ندارد راه که نهال اند در قباب الله کوئی ان کے حال پر واقفیت نہیں پاتا۔کیونکہ وہ اللہ کے گنبدوں میں مخفی ہیں گر نماید خدا کے ناناں پر کاش دوند سلطاناں اگر نہ تھائی ان میں سے کسی کو ظاہر کر دے تو اس کے جلو میں بلو شاہ دوڑتے ہوئے چلیں ایں ہمہ عاشقان آن یکتا نور یابند از کلام خدا سیب ندائے لاشریک کے عاشق خدا کے کلام سے ہی اور حاصل کرتے ہیں گرچه بهشتند از جہاں پنہاں بازگر گر ہے شوند عیاں اگا ہوا، دنیا سے پوشیدہ ہیں۔یہ ہم کبھی کبھی ظاہر بھی ہو جاتے ہیں