دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 70
به مسیر با نیالت شیر بہت باریک دوتار نه برای شب زرین صد غبار تیرے خیالات رات کی طرح تا یک تاریں میں پہنیرے کہنے کی وجہ سے سٹور پر دے پڑ گئے ہیں ول ما رو دندان شب شاد کن برس و زرو پوستها یا دگنی چوروں کی طرح اپنے دل کورات ہو نے پر خوش در یکہ ڈر اور ستر کے دن کو یا دکر ار اور ہوا ہم چو شرقان پری اگر یہ میر آپ با گذری چمران یہ تو پرندوں کی طرح ہوا میں اُڑے۔اور اسی طرح پائیوں پر پچھلے وگر نہ آتش آتی سلامت اسهال او گر خاک با اندکی از فسوں اور آگ میں سے بھی سلامت نکل آئے۔اور جاود سے مٹی کو سونا بھی بنادے تیاری کر تی راکتی زیر دوست مسکن فرانز خانی و جوان دوست پھر بھی یہ مکی نہیں کرتی کو بنا کر سکے پیس دیوانوں اور مدہوشوں کی طرح بکھ اس نہ کر خدا ہر کہ را کرد مهر منیر نه گر دوز دست تو خاک حقیر ند جس کو خدا نے چمکدار سورج بنایا ہے وہ تیرے ہاتھوں تحقیر مٹی نہیں بن دول خود برده موز اسے دنی نہ کا ہد نہ کر تو افزود نیلی اسے ذلیل انسان اپنے دل کو بے فائدہ نہ میں بڑھنے ولی چیز تیری چالاکیوں سے گھوٹ نہیں سکتی بهارست و با و میها درشین کنند تا زیبا با گل دیامن وجبها تاز با موسم بہار ہے اور یاد کیا چکن میں گلاب اور چنبیلی کے ساتھ ناز کر رہی ہے ز نسرین و گل ہائے فصل بہار نسیم مہاسے وزد مطران بہوئی اور فصل بہار کے پھولوں سے مہکتی ہوئی ہوا تو شیو اڑاتی ہوئی پھل استا