دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 68
YA نیارید یاد از حق ہے جنگوں پسند ہو تادست دنیائے ہیں تم ندائے بیگوں کو یاد نہیں کرتے اور یہ ذلیل دنیا تم کو پسند آگئی ہے۔یہ ڈیا کے دل بہ بندد باترا که ناگاه باید شدن زمیں سلام کوئی اس دنیا سے کیوں دل لگائے جبکہ اچانک ایک دن اس سرائے سے کوچ کرتا ہے۔سرانجام این خانه رنج هست و درد به پیش نمایند مردان مرد اس گھر کا انجام رنج و درد ہے۔مرد لوگ اس کے داؤ میں نہیں آتے رین گل میالا ئے دل چوں نے کہ عہد بقالیش نماند جسے ان کیچڑ سے کمیٹیوں کی طرح دل کو آمادہ نہ کر کہ اس کے ٹھہرنے کا زمانہ دیر تک نہیں رہتا زمان مکافات آید فراز تور پیش دنیا بدیں سال منان جزا کا دن آ رہا ہے۔پس تو دُنیا کی زندگی پر نانہ ذاکر فریبے نور از زر و سیم و مال که سهرنال را آهمه آمید زوال خورانہ زرد سونے ، چاندی اور مال سے وہ کائنہ کھا۔کیونکہ آنتو ہرسال پر نعال آجاتا ہے۔در آورده ایم و نه با خود بریم کی آمدیم و تمی بگذریم ہم کچھ ساتھ لائے اور نہ ساتھ لے جاہیں گے خالی ہاتھ آتے تھے اور خالی ہاتھ پہلے جائیں گے الاتا نہ تابی سران دوئے دوست جانے نیزد بیک ہوئے دوست خدا را دوست کی طرف سے منہ موڑ سارا جہان دوست کے ایک بال کی برابری نہیں کر سکتا ہے خدائی کہ جہاں پر رواد فدا تیابی میں جنہ اپنے مصطفے اوہ تھا میں کی راہ میں ہماری جان قربان ہے اس کا راستہ تجھے ملنے کی پیروی کے بغیر نہیں مل سکا