دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 67

کی گری ہمارے سر راست گوشی ست و نیند سنتا ہے ان جملوں کا اسے آنکھ میں کہنا چاہئے جو ساری عمرانی ہی بوند د کان کن ہے میں نے بھی محبوب کی بات سنی ہو میں این امر به مصر سوم حاشیه صفحه ۲۰۳) الا للہ اسے کمر بستہ پر افترا کشش خوشیقی را به تحریک جیال انے نہیں نے الٹرا پر کرباندھ رکھی ہے خوار ہو جا اپنے میں ہے یہ ان کی چاک نہ کر خاصان متی کی رات کا کیا کے شرمت آید نگیہاں مخدا ندا کے سے روشنی ندا کے خاص بندوں سے کیک و شینی کرتا رہے گا بھی تجھے اس جہان کے پروردگار سے شرم کی بات جو چیزے بود روشن اندر بھی برد هرچه بندی بود ایمی ری کی ہی اپنی خون کی رو سے ملی ہو تو بھی ا پر الزام لگائے گا تو میں نوٹ ہی کہلائے گا به نیک گوهرگان بدیری بدانند مردم که بد گوهری جب تو کسی نیک آدمی پر بدگمانی کرے گا تو لوگ سمجھ لیں گے کہ تو خود یہ اصل ہے۔چو گوئی در پاک را پر غبار بار دو چشمت شد و آشکار تو روشن موتی کو صدا کہے گا تو اس سے تیری آنکھوں کا دھندلا ہی ظاہر ہوگا۔سخنہانے دبے پرست رہے مخزو نام بود بر جبیٹیاں نشانے تمام گندی۔بے معنی اور بے ہودہ باتیں نبیوں کی بجاشت کو ہی ظاہر کرتی ہیں۔نمایند گفتن مسکن مجرد در در برخی موارد درونی فروغ تم ہو نے جھوٹ کے اور کچھ کہنا نہیں جانتے مگر صلح کے سامنے جھوٹ فروغ نہیں پاسکت