دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 54

۵۴ ار کشتی با بافت از امام یافت | کرنے کو تافت الاسلام نافت جس کسی نے خدا کو پا یا الہام سے پایا۔ہر ایک چہرہ جو چھکا وہ السلام سے چکا تو نہ اہل بیت دیں سبب از کلام بابر سے ماری محب تے محبت کے کوچہ کا واقف تھیں اس لیے کلام یار پر تعجب کرتا ہے عشق سے خواہد کام بار ها رو به پس از عاشق این اسرارنا عشق تو دوست کے کلام کو چاہتا ہے۔ہا اور عاشق سے اس راز کو پوچھ این نگو که در کش دوریم ما ربط او با مشت خاک ما کجا ہ ہ ہ ہ ہ کہ ہم اس کی درگاہ سے وہ میں سے اس کا ای بادی اشیا ناک سے نہیں پوچتا داند آن مرد یک روشن جاں بود کیس طلب در نطرت انسان بود اس بات کو وہی جانتا ہے کو روشن ضمیرا ہے کہ خدا کی طلب انسان کی فطرت میں داخل ہے اول نے گیر و تسلی خود شد | این چنین افتاد فطرت نامتدا عداد کے بغیر انسان کا دل تسلی نہیں پاتا۔ابتدا سے آدمی کی بھی فطرت ہے ول ندارد صبر از قولی نگاری کاشتند این تخم از آغاز کار حبوب کے کلام کے سوال کو صبر میں امداد سے خدا نے یہ بچے اس کی فطرت میں بویا ہے۔آنکه انسان اپنی فطرت بداد یوں کمال فطرتش دادے بیاد وہ خدا جس نے انسان کو ایسی خطرات وی بود کس طرح اس کی فطرت کے اس کمالی کو برباد کر دنیا کارین کے ان نشر گردہ اور کے شود از کر کے کا بو ندا کا کام انسان سے کیڑ کر ہی ہو سکتا ہے۔ایک کپڑے سے فضائی کا مرکب ہو سکتے ہیں 1