دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 41
الا جرم طالب رضائے محمد و انگار از همه برائے غدا ج کی بات ہے کہ خدا کی رضا کا طالب خدا کے لیے ہر ایک سے قلع تعلق کر شیوه اش مے شود فدا گشتن ا ت ابریقی ہم زباں محمد اشتی | اس کا مذہب تو یار پر قربان ہو جانا اور خدا کے لیے اپنی جان سے جدا ہوتا ہے اور رضائے محمد اشدن پیوں خاک نیستی و فتا و استهلاک | محمدا کچھ رضا میں خاک ہو جانا اور نمیستی اور فنا اور ہلاکت کا طالب ہوتا اول نهادن در آنچه مرضی یار امیر زیر مجاری اقدار جو مادہ کی مرضی ہو اس پر راضی ہوتا اور جہاد کی شدہ قضا و قدر پر صبر کرنا تو بھی نیز دیگری خواهی | این خیال ست اصل گراهی | تو خُدا کے ساتھ اوروں کو بھی چاہتا ہے۔میں یہی یال گرامی کی بیٹ ہے اگر وہندت بصیرت و مردی از ہمہ خلش سوئے تھی گردی طرف متوجہ رہے اگر تجھ میں تقل اور دہری ہو تو تو صرف خدا ہی کی طرف متوجہ در حقیقت پس است یار یکے دل کیسے ماں کیسے نگار کے یقت محبوب ایک ہی کافی ہے کیونکہ دل بھی کہتا ہے اور ان کی ایک اس لئے جو بھی ایک ہوا اہر کہ اور عاشق کیسے باندا ترک جال میش اند کے باشد جوں کی ہی ہستی کا عاشق ہوگا جان دنیا اُس کے لیے معمولی بات ہوگی: کوئے او باشندش زیستاں یراق روئے او باشدش نه ریحال برا اس سرا کو چھہ اُسے باغ سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور اس کا منہ پھول سے زیادہ اُسے پسند ہوتا ہے ہے