دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 42

ارچه دلبر بدو کند آن به دیدن طبرش ز صد جان به | معشوق وہ بھی ملک میں کے سانے کے لے ہی بہرتا ہے اپنے دلی کا دیکھنا کے سو جان سے بڑھ کر ہوتا ہے۔یا به زنجیر پیش دلدارے بہ ز ہجران و سیبر گلزار وادار کے مانے یا یہ دنیا ہو اس کے لیے اس جدائی سے بہتر ہے جس میں گلزار کی سیر ہو ا اہر کہ دارد یکے دلا رہا ہے جو بولش نیابد آرام جو شخص کا ایک ہی دل آرام ہے تو اسے سوائے اس کے وصل کے آرام ہی تھیں آتا شب به بستر تد ز فرقت یار اهمه عالم بخواب و او بیدار را مات پھر وہ دوست کی جدائی میں بہتر پہ تڑپتا ہے سب دنیا سوتی ہے وہ جاگ رہا ہوتا ہے انا نه بلند صبوری اش ناید بر دوش سیل عشق بر باید جب تک اُسے نہ دیکھ لے اسے صبر نہیں آتا محلہ حمیت کا سیلاب اُسے رائے لیے جاتا ہے اور دل عاشقان قرار کیا توبہ کرون نہ روئے بابر کجا عاشقوں کے دل کو بھلا آرام کہاں ! یار کے دینے سے توبہ کرنا پھر معنی دارد؟ جاناں گوش خاطر شال | گفت راز یکه گفتش نتواں - ہوں کے ٹھو نے ان کے دل کے کان میں ایک ایسا رانہ کہ دیا ہے جو بیان نہیں ہو سکتا ہنیں است سیرت عشاق | | صدق در زال بایز و خلاق انتظران کی سیرت ایسی ہوا کرتی ہے کہ وہ خدا کے ساتھ سچائی کا معاملہ رکھتے ہیں جہاں منور به شمع صدق و یقیں | نور حق تافتہ بلوچ نہیں ان کی جہانی بھائی کی شمع سے روشن ہوتی ہے اور نور حق اُن کی چینیانی سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے Apd