دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 37
یش دنیا ئے دوں دے چوست آخرش کار با خداوند است | اس ذلیل دنیا کا میش چند روزہ ہے بالآخر خد اتعالے سے ہی کام پڑھتا ہے این سرائے زوال دمورت وقت است سر کو نشست اندریس به خاست | یہ دنیا زوال موت اور فنا کی سرائے ہے جو کبھی یہاں رہا وہ آخر رخصت تمھا یکہ مے کو سوئے گورستان و از خموشان آن به پریس نشان | تھوڑی دیر کے لیے قبرستان میں جا اور وہاں کے مردوں سے حال پوچھ کہ آل بیات دنیا چیست امر که پیدا شد است تا کے زیست کہ دنیاوی زندگی کا انجام کیا ہے۔اور جو پیدا ہوا وہ کب تک جیجا ہے ترک کن کین و کبرو ناز و دلال تانه کارت کنند یبوئے ملال | کینہ تکبیر فخر اور ناز چھوڑ دے تاکہ تیرا خاتمہ گمراھی پر نہ ہو پهن چون این کارگه به بندی بار باز نائی دریس بلاد و دیار جب تو اس دنیا سے اپنا سامان باندھ لے گا تو پھر ان شہروں اور ملکوں میں واپسی تھیں آئے گا ے زمیں بے خبر بخور عظیم دیں کہ نجابت معلق است بدین دین سے بے خبر دین کا غم کھا۔کیونکہ تیری نجات دین سے ہی وابستہ ہے ہاں تغافل مکن اویں غم خویش که با کار شکل است پر پیش | الدین غم که خروار اپنے اس غم سے غفلت نہ کیجو کیونکہ تجھے مشکل کام در پیش ہے۔پول این درد و غمر نگار بکن | دل جہاں نیو همر شار یکی اپنے دل کو اس درد و غم سے زخمی کرد دل کیا کہ جان بھی قرآن کرد -