دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 38
۳۸ اہمت کارت ہمہ بال بکنات پول صبوری کنی از دو هیهات میر المواد العطر تو اسی ایک خودات سے ہے اس میں ہے کہ پھر اس کے بینر کو کر کے ہر اتا ہے یفت گردد چون در گروی بازا دولت آید از آمدن به نیاندا جیب تو اس سے برگشتہ ہوتا ہے توتیری قسمت خراب ہوتی ہے اور جو کے ساتھ ان منصور آنے سے دوران میں ہے یوں بہتری نہیں جنہیں یارے چوں بریں اہلی کٹھی کا رے کوں راج کی ہے دوست سے تعل قلع کرسکتا ہے کس طرح یہی ہو قوری کا کام کرسکتا ہے این جهان است مثل مروارے اچھال سکے ہر طرف مایہ کار ہے ی دنیا کو مردار کی طرح ہے اور اس کے طلبگار کتوں کی طرح سے چھٹے ہوئے ہیں خشک آن مرد کو انہیں مردار ہوئے آر ولیو کے آں وادار | وہ شخص خوش قسمت ہے جو اس مردار سے بچ کر اپنا منہ خدا کی طرف پھیرتا ہے۔چشم بند و نه غیرد داد دید اور سریار سر بیاد و 14 غیر کی طرت سے انھیں بند کر لیتا ہے اور انصاف کرتا ہے اور دوست کے خیال میں اپنا سر قران کر دیا ہے۔این همه توش حرص و آز و هوا بست تا است مرد نابینا جر میں۔لالچ اور طمع کا یہ سب طوفانی اسی وقت تک ہے جب تک کہ آدمی اندھا ہے چشم کے پو شیر دل اند که بو گردو بانه | اسرد گردد به آدمی همه آزا لیکن جب دل کی آنکھ تھوڑی سی بھی کھل جائے تو آدمی کی تمام حرص ٹھنڈی پڑ جاتی ہے ایسے اس باتے آن کرده درانه ازیں ہوس را چرا نیاتی باندا نے وہ کرمیں نے ابھی کی بیان نہیں کر رکھی ہیں کیوں تو ان پروس پرستوں سے باز نہیں کی