دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 364
نوزد ۳۹۴ یکر تو طالب خدا ہستی اس تھیں جو کہ بخشدت مستی که سے وہ شخص کہ جو خدا کا طالب ہے تو ایسا تھیں تلاش کر کہ تجھے سرشار کر دے کی میتیں جو کہ سیل تو گردد همه در یاد میل تو گرید اور بار یقین ڈھونٹ میرے لیے سیلاب بن جائے اور تیری ساری محبت خدا کے لیے ہی ہو جائے لیے اں تھیں جو کہ هرچه غیر خدا همه سوزد وہ یقین ڈھونڈا جو ایسی آگ جلاتے ہو کہ مر ا ا الا اللہ کو بھسم کو بجھانے ، اد یقین ست زهد و عرفان هم گفتیت آشکار و پنهان همر ین ہی کی بدولت اور یرقان بھی حاصل ہوتا ہے یہ بت میں نے تجھ سے ظاہر ابھی کہ دی اور مخفی بھی جود نھیں دین تو یوں بردارے سر میم از کبرو دل ریا کارے بغیر یقین کے تیرا دینی مردار کی طرح ہے سر تیمبر سے بھرا ہوا اور دل دیا میں بند 2 بے یقینی نفس گرورت ہونگے جنیدش نزد پر فسا در گے بغیر یقینی کے تیر نفس کتے کی طرح ہوجاتا ہے۔پر فساد کے وقت اُس کی رگ حرکت میں آجاتی ہے۔دورانه نگار خواهد ماند ہر شخص محبوب سے دور رہے گا۔وہ ہمیشہ نفس دنی کا شکار رہے گا تل کرنے سے دیدار است ایک ال خود شکل این کار است اگر تجھے دیدار کی خواہش ہے تو پاک دل ہو جا۔یہ بات مشکل نہیں ہے این مراد از خرد چھ سے ہوئی وحی می شوید از سیر ہوئی سیررونی تو اس مراد کو عقل کے زور سے کیا ڈھونڈتا ہے۔خدا کی وجھی بھی منہ کی کالک کو دھو سکتی ہے۔