دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 360
ان بیتنے کہ ماتھے زخطاست اگر بخواهی رهش بگیمر هاست وہ یقین ہو گناہ سے بچاتا ہے اگر تو چاہیے تو میں تجھ سے اس کی حقیقت بیان کردوں ھم کلام تیدا بقطع و یقیں پاک دیر تزن دخل ویو میں اس همان چار عید ماری ہے وہ منہ کا قطعی اور یقینی کلام ہے۔جو شیطان یعنی کے پھل سے پاک اور بالاتر ہو پس همان چاره خطا کاریست راه دیگر طریق مکاریست پس وہی کلام گناہ کا علاج ہے۔کوئی اور طریقہ کس شنیدی که با یقین بلاک باز در بیشه رود بیباک یا تو نے کبھی تا کہ اگ بلا ہوجانے کا یقین ہونے پر بھی کوئی ڈر ہو کر گل میں جاتا ہے پس چه مکن که با یقین خدا باز گردد دیے بگرد خطا پس کیوں کر مکن ہے کہ خدا پر یقینی ہوکر پھر بھی کوئی مل گناہ میں منہمک رہتا ہو مل نگ معین را نین نیادی نام دین شدی با جداشت به نام تو نے شکوک وشبہات کا نام یقین رکھ چھوڑا ہے اس لیے تو گناہوں کی وجہ سے ہر نام ہے ان کے شوئے خود نظر انداز از سر اور دیدہ ملائی باز دیا اپنی طرف دیکھ اور نور سے آنکھیں کھول تا بدانی که کور و مجولی سخت محروم مانده زیبی خوبی : اور الجھے معلوم ہو کہ تو اٹھا اور تجوب ہے اور یقین کی خوبی سے بالکل محروم میجر فره نیست در تو از انوار شب در گور را باد چه کارا در تو تجھ میں ذرا بھی ٹور نہیں ہے۔انغیری اگلی رات کو چاند سے کیا حاصلہ