دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 342

نے کئی با مبادرت احمد اگر تو تھانے واحد کے بندوں سے بخل اور حسد کرتا ہے تو تو زہر کھاتا ی تیر و مرواری دور از فضل حضر ہے باری جد تک قوتنا نہیں ہوتا تب تک گرمی سے بھی بدتر ہے اور خدا کی رحمت سے دور ہے۔تان گردوست گران به نیاز پرده از نفس تو نه گردد باز جو ایک تیر اس ایوان کے ساتھ تنہا نہ ہوگا تب تک تیر نقض کے سامنے سے پردہ نہ بیٹھے گا تک تا نه دینه و بنده همه پر و بال اندر اینجا به بدن است محال ہ تک تیرے سب بال و پر نہ چھڑ جائیں گے تب تک اس راہ میں تیرا اڑانا محال ہے پرده نیست بر گرم دلدار تو ز خود پرده خودی بردار پر تو کا الله وبر کے چہرہ پر تو کوئی پردہ نہیں ہے مگر تو اپنے آگے سے نودی کا پردہ ادا هر کرده ادولت ازل شد یار کار او شد دلیل اندر کار جیسے ابدال دولت مل جاتی ہے اُس کا کام ہر بات میں مجرد انکسار ہوتا ہے۔ال سیداں تھائے اور دیدند کہ بلایا برائے او دیدند این نوشی قسمتوں نے اس کے چھرہ کو دیکھ لیا جنہوں نے اس کی راہ میں مصیبتیں ان میں آمد ریختہ پیتے ہیں شاہ دل رکف از سراد فتاده کلاه دل ژاکت دار اس بادشاہ کے لیے توں نے انی اور قران کرد کی دو ہاتھ سے گیا اور ٹوپی سر سے اتاری کا ہا گر نمایند سر به بار گذر از شمش جان کنند زیر دریا کہ نیب کی راہ وقت نہیں پاتے تو اس کے غم میں اپنی جان زیر وزیر کر دیتے ہیں Apl