دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 328
نفس دهان تا نه بینید اس انوار کے شو د سرد خواہش مروار نفی شمال راجب تک وہ انوار نہ دیکھے تب تک مردار کی خواہش کب سرد ہو سکتی ہے صحت اللہ کلام ربانی از خدا آلو خدا دانی خدا کی قسم میں شعراء کا کلام ہی ہے جو خدا کی طرف سے خدا شناسی کا آلہ ہے ان زنان کر شش نام بے کلام خدا نہ گردو رام ل ہے کلام وہ ہو تو ار اند یا جن کا نام نفس ہے۔خدا کے کلام کے بغیر مطبع نہیں ہوتا این قسمان است بهر این بارے کر لپ باد یک دو گفتاری اس سانپ کا یہی منتر ہے کہ محبوب کے منہ سے ایک دو باتیں سُن لی جائیں ده چه دارد اثر کلامیم خدا دیو بگریزد از پیام خدا واہ تو اور خدا کا کلام کیا اثر رکھتا ہے کہ اس کے پیام سے شیطان بھاگتا ہے و در کار مست با شب تار چون سحر شد گریز و آل فتار جو تعلق اندھیری رات کے ساتھ ہے جہاں صبح ہوئی اور وہ نقارہ بھاگا مو تقول خدا کدام سحر که رود تیرگی ازد یکیسر خدا کے کلام جیسی اور کونسی صحیح ہے میں کی وجہ سے اندھیرا بالکل ڈور ہو جائے تین و سر که این در برو خدا کاشاد ہے تو قت ندایش آمد یاد جس شخص پر خدا نے السلام کا دروازہ کھول دیا اُسے ہمیشہ خدا یاد رہتا ہے۔آنچنان دور شد ته خت د فساد که نماند اثر از استعداد ادہ فرحت اللہ فساد سے آنا مور ہو جاتا ہے کہ ان باتوں کی صلاحیت ہی اس میں نہیں رہتی