دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 285
نیست خود تا بر تو فیضا نے رسید جمال بینیتان تا دگر جانے رسد نادیگر اپنی ہستی کو ناکردے تا کہ تجھ پر فیضان الہی نازل ہو جان قربان کر تاکہ مجھے دوسری زندگی ہے ت گذاری خیر خود در کمر و کیں چشم بسته اند رو صدق و یقیں تو تو اپنی عمر کبر اور رکید میں بسر کرتا ہے اور صدق و یقین کے راستہ سے پنکھ بند کر رکھی ہے نیک دل با نیکون دارد سرے کی گرفت مے زند بدگوہرے میرے نیک دل انسان نیکوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔مگر بد اصل آدمی موتی پڑھی تھوکتا ہے بست میں تخمه خانه کاشتن روز سر بستی قدم برداش داشتن دین کیا ہے۔فنا کا بیچ ہونا اور زندگی کو ترک کر دینا و مینی با دود در دو نیر کس نے یزد که گرد دو شیر پر چینیوں کے ساتھ گیا نور کوئی کھڑا ہو جاتا ہے کہ تیرا اس گانہ ہوجائے با خبر را دل تپد یہ بے خبر رہم ہر کورے کند اہل بصر امان کے لیے دانا آدمی کا دل تڑاتا ہے اور آنکھوں والے اندھے پر ضرور ہم کرتے ہیں مچنین قانون قدرت اوفتاد مرضعیفان را قوی آرد بیاد اسی طرح کانون اٹھی تھی واقع ہوا ہے کہ تھی کمزوروں کو ضرور یاد کرنا تتذكرة الشاد تین صفحه ۳۵ مطبوعه ۶۱۹۳ الشادتين الها فى مصرع خوش باش که عاقبت نکو ملی ہر نمود خوش ہو جا کہ انجام اچھا ہوگا رائید ۱۷ دسمبر ۱۹۰۳ء) ہے