دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 275

۲۷۵ ممکن بدست مفت ملک شما نشان نے بھی اگرم سر کے چشمہ نیا باشد میں ساتوں آسمانوں میں کسی کو ان کا مثیل نہیں دیکھنا خواہ پر آسمان نور کا چشمہ ہی کیوں نہ ہو۔ر محبت شان یہ بات تاریکی دویر گلشن شان آنچه دکتا باشد ان کی مجھ سے باعث گناہ کے مینابت کافور ہو جاتے ہیں اوران کے چین میں وہ بہار ہوش اتی ہے جودل کو مانے وہی ہے را جدا کنی در گرده ای مس نفس مگر بد وستی شان که کیمیا باشد ہر کوشش کر نفس کا تانبا ون نہیں ہے گا ان کی دوستی سے کیمیا اثر رکھتی ہے یہ بات ہوسکتی ہے۔گر تو خود بریزی دیگر میکن نیست که سایه کرم شال و تو محمد باشد گر تو آپ ہی ان سے بھاگے تو خیر ورنہ یہ نا کی ہےکہ ان کی مہربانی کا سایہ تھے سے الگ ہوجائے خبار حرص و ہوا را بزیر با کند که ترک دوست زیر مواجفا باشد یہ لگ حرص و ہوا کے باس کو پیروں میں سل ڈالتے ہیں کہ اتھ تو ایش کی خاطر دوست کو چھوڑ ی ظلم ہے مامرتی من بین گروه خود کرد است بجنبه که نه تدیش نه انتها باشد میرے مشرقی نے مجھے اس اپنے گردہ میں داخل کیا ہے ایسے جذبہ کے ساتھ حسن کی حد و انتہا نہیں ہے۔ختی به بند جواه پر تو من بشرط آنکه به سر روده را باشد خلقت کی آنکھیں میری دوستی کو چاند کی طرح دیکھ سکتی ہیں بشر طیکہ بابوں سے نجات پامل ہیں بزار گور نشانہانے صدق بنمایم بشرط آنکه بصبر امتحان ما باشد میں انہیں ہزاروں قسم کے نشانات دکھاؤں گا بشرطیکہ مہر سے ہمارا امتحان کیا جائے تک قریب میں شدند برش برکات کی امت طالب کی سوتین ازا باشد کی کی بیٹی کی کور سے ناک میں کے ایک ا ا ا ا ا ا اب کہا ہے کہ اس کا یقینی اڑ سے