دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 276

کھولے کہ دور خشیت خدا باشد کجاست مردم جانیکه با جا باشد ار ساحل کہاں ہے میںمیں خدا کا خوف ہو اور ایسی پہلی انکھ کی کہاں ہے میں میں شرم دیا ہوا ہے بجاہ و منصب نیا ناز سے ہشیار که این تیم و معیشت نه دائما باشد ور یاد کی موت اور اس عمل پر اسے سمجھ دار انسان تازہ ہ کر کہ تیرا یہ عیش و آرام دائمی نہیں ہے به خواب گند و این نفت خوش که بیداری طمع دارد که این حال ر ابقا باشد تیرا ہو اچھا زمانہ نواب کی طرح گزر جائے گا یہ امید مت کہے کہ یہ حال ہمیشہ اس طرح باقی رہے گا نماز مے کنی و قبلہ رائے دانی داشت پر نور میں نماز با باشد کو نماز پڑھتا ہے گر تباہ مقصود سے فاضل ہے میں نہیں جانتا کہ ایسی نمازوں کا کیا فائدہ تبعیده مول بچکاند مارع قصته حشر بشرط آنکه بدل خشیت خدا باشد حشر کا ذکر سننے سے آنکھیں خون آلودہ ہو جاتی ہیں بشرطیکہ دل میں خدا کا خوف ہو بنض تیر تمنائے مل او هیهات سدیمان بخدا کو د خود فتا باشد وجبات سید کود خودتا بیا کے ساتھ خدا کے وصل کی آئندہ افسوس کی بت ہے مال تو ہی بنتاہے جواپنےآپ کواس کی رامین ناری قدم منزل رمانیاں بند کہ جدی جهان و کار جہاں جملہ ابتلا باشد وران لوگوں کی منزل میں قدم رکھ کہ بغیر اس کے دنیا اور دنیا کے سب کام ابلا ہی ابتلا ہیں رائے خوان دوام و بیش مافی است نهنگ مرگ چو هر لحظه در قفا باشد مرگ پور ہے یہ آرام کی غیر اور اس اور عیش و عشرت کی جگہ کب ہے جبکہ موت کا گر کچھ ہر وقت پیچھے لگا ہوا ہے کہ ستاد کار بد ا بهتر است در محبوب چه خوش دے کر گر نتایہ اور با باشند محبوب سے دل لگانے میں ساری کامیابی ہے کیا حسین چہرہ ہے جس کا قیدی آزاد ہے