دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 235

۲۳۵ نفتی و عالم جمله در شور و شراند عاشقانش در همان دیگر اند مخلوقات اور دنیا سب شور و شرمیں مبتلا ہے کہ اس کے عاشق ہور ہی عالم میں ہیں لا عالم اس جہاں چال اندر کس تایید از جال میں کو ردی کے چو دید وہ عالم میں شخص سے پوشیدہ رہا۔اس وہ نجت نے دنیا میں آکر دیکھا ہی کیا؟ ناه حق پر صادقال آسان تر است هر که جوید دانش آید بدست انی پر ان کا راستہ پاتا سا ہے مواد کو روتا ہے تو اس کا اس اس کے اتھ میں آجاتا ہے بر که بوید دلش از صدق و صفا به دانش ہونے کی سبت السما جو بھی صدق و صفا کے ساتھ اس کا وصل چاہتا ہے اس کے لیے آسمانوں کا خدا وصل کا دستہ کھول دیتا ہے انتقال را می شناسد چشمیم یار کید و مکر انجانے آید بیکار یار کی نظر یوں کو پہچان لیتی ہے کر نے اور چالا کی یہاں کام نہیں دیتی صدق سے باید پائے وصیل دوست هر ک بے مدتش بودید حتی اوست حمق دست کے وصل کے لیے صدق درکار ہے جو بغیر صدق کے اُسے ڈھونڈتا ہے وہ بیوقون ہے صدق ورز سے در جناب کبریا آخرش سے یا بد از میمن دفاع در خدا کے حضور مصدق کو اختیار کرنے والا آخر کار اپنی وفا کی برکت سے اسے پالیتا ہے سے مدد بکنید به صدق یار رفته باز مے آید به صدق سیکڑوں پر دانے صدق کی جسے گھل جاتے میں کھوائیں دوست سنتی کی وجہ سے واپس آجاتا ہے صدق ونال انہیں باشد نشاں کرنے جاناں بکت دار تم جاں بچوں کی یہی علامت ہے کہ محبوب کی خاطر ان کی جان ہتھیلی پر ہوتی ہے وجہ صدق