دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 234
۲۳۴ 4 کاری است این و از کمر بشر و من این دشمن آن دادگر ہے خدا کا کام ہے نہ کہ انسان کا کہ اس کا دشمن اس عامل خدا کا دشمی ان خدا کا ین علیزے ایدی است رحمتش در کوئے ابار یہ است وہ خدا جس نے اس عاجز کو منتخب کیا ہے اس کی رحمت ہماری گلی میں برسی ہے مردم و جانان پس ازمون رسید گیر شدم آخر نے آمد پدید جب میں مرگی تو مرنے کے بعد میرا جوب آ گیا جب میں فنا ہو گیا تو اس کا چہر مجھ پر ظاہر ہوگیا میں عشق دیر سے ٹپہ زور بود قالب آمخت مار اور سلاد ویبر کے عشق کی کرد زوروں پر تھی۔وہ غالب آگئی اور ہمارا اسب سامان بہا کر لے گئی من مدارم باید کردار یا عشق بوشید و از و نند کارها میرے پاس گئے س اعمال کا ذخیرہ نہیں بلکہ عشق جوانس میں آیا اور اس سے یہ سب کام ہو بهر من شد نیستی کطور خدا چهل خودی رفت آمده آن نور خدا میرے لیے قیستی ہی معدہ ا کا طور بن گئی جب خودی جاتی رہی تو خدا کا تو آگیا دید کرد که در اثر کے دوست حول فرخندہ پیل سوئے دوست لاق دی چہرہ ہے اور ہر ملک دل اسی کی طرف اہل ہے در دو عالم متل او لئے کہ است جو سر کویش دگر کوئے کجاست ماہ میںہی کی بات کا کوئی چوکیاں ہے پھر اس کے کوچ کے میں اور کوئی کہ چہ کہاں ہے ؟ ان اند و ال کسان کو کوچه او فاضل اند درسگان کوچه با ہم کمتر اندا وہ لوگ ستارہ اس کے کوچہ سے فاضل ہیں۔وہ گلیوں کے کتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں