دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 222

ے پاور و دین است ہے ہمیں واشار ناک شہر اک گر باز کنه ش کیرا ے بھائی دین کا راستہ بہت مشکل بات ہے، ناک ہو جانا۔تاکہ پر مجھے اکسیر بتا دیں۔توبا کی اگر نہ کیتابی سر خویش من از آمدم با تو بگی میری تقریر اگر تو کبر سے مداگردانی کرے گا تو بلاک ہوجائے گا میں اس کے پاس گیا ہوں اور بطور غیرت کے سمجھاتا ہوں آن خوانی اند خیلی جهان پی بر اند ایمان و جلوه خود است اگر پای بندی وہ خدا میں سے مخلوق پر لوگ بے خبر یں اس نے مجھ پر بل کی ہے۔اگر تو عقلیت ہے تو مجھے قبول کر اسراج منیر صفحو المطبوفه ، ۸۹ این ے فریر وقت در صدق و صفا با تو باد آن رو که تامیم او خنده ے صدق و صفا میں اس زمانہ کے بیگانہ انسان میرے ساتھ وہ ذات ہو تیں کا نام خط بر تو بار د رحمت با بر ازل در تو تا بد نور دلدار اول تجھ پر اس بارہ قدیم کی میت کی بارش ہو اور تمہیں اس محبوب ازلی کا دورہ چکتا از تو جان من خوش است اسے خصال دورات میرے دیں قحط الرجال اسے ایک علت انسان تجھ سے میری جان راضی ہے اس عطار قبل مں میں نے تجھ کو ہی ایک مرد پایا ہے۔در حقیقت مردهم معنی مردیم معنی کم اند کو ہمراز روئے صورت مرد مراد کے در اصل حقیقی انسان کم ہوتے ہیں اگرچہ دیکھنے میں سب آدمی ہی نظر آتے ہیں سے مراد نے محبت ہوئے تو ہوئے انس آمد مرالہ کوئے تو ے کہ کہ میری محبت کا تیری بات ہے مجھے تیرے کوچے سے انس کی خوشبو آتی ہے۔