دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 223
۲۲۳ کس نہیں موم کا روئے نکرد این نصیبت باردا سے فرخنده مرد گار ہیں کے تنے بھی بہا ر ا ن کیا ا ایک نیا انسان یہ بات میری امت میں کی تھی ہرزمان با سنتے یا دم کنند خسته دل از مجد و بید اوم کند یادم یہ لوگ تو ہر وقت مجھے لعنت سے یاد کرتے ہیں۔اور ظلم و جنا سے مجھے رکھ دیتے رہتے کی چشم بار صدیقے نہ شد تا بچشم غیر زندیقے نہ شد نه یہ کی نظر میں کوئی شخص متدین قرارنہیں پاتا جب تک وہ غیروں کی نظر میں زندیق نہ ہو کا فرم گفتند و دنبال دلین هر قلم الله ہر فلم ہر لیجے در کمیں ! نہوں نے مجھے کا فرد حال اور سنتی کیا اور ہر کینہ میرے قتل کے لیے گھات میں بیٹھا گیا بنگر این بازی کنال را چون جهند از حسد بر جان خود بازی کنند ی از گروں کو دیکھ کہ کس طرح چھتے ہیں یہ عصر کے بارے اپنی کمان سے بھی کھیلتے ہیں مومنے را کا فرے داون قرار کار جاں بازی ست نزد ہو شیار کسی مومن کو کافر ٹھیرانا سمجھ دانہ آدمی سے نزدیک بڑے خطرہ کی بات الہ ا کہ تکفیر ہے کہ انہ ناحق بود واپس آیا بر سر المش قد کیونکہ جو تکنیز ناخی کی جاتی ہے۔وہ تکفیر کرنے والے کے سر پر ہی واپس پڑتی ہے سفہ کو غرق در کفر نہاں مردہ نالد بهر کفر دیگران دبیر بے وقوت جو مفتی کفر میں فرق ہے وہ اور وں کے کفر پر ناحق پیمودہ نقل کھاتا ہے اور کر غیر وال کفر باطن داشت نوشتن را بدرسے انگاشت اگر دیکھو اپنے باطنی کفر کی خبر ہو تو تو اپنے آپ کو ہی بہت برا سمجھت