دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 207
риво ہوں تو کورسے نیتی پنے گنا ہیں چہ ظاہر سے کند ارض و سما جب تو اندھا نہیں ہے تو آنکھیں کھول اور دیکھے کہ آسمان و لر مین کیا ظاہر کرتے ہیں یران بشنو صدائے التقرير ذو الجلال و دور انکی نور سے منیر ہر رات میں آواز آتی ہے ایک اور ندا ہے ایک حب بلال صاحب موت اور روشنی بخش نور موجود ہے ایی مخلوقے ندائے خود نگیر کے شود یک کر کے ہوں اس قدیر تو کسی حقوق کو اپنا خدانہ بنا ایک کیڑا کیونکر اس تقدیر کی طرح ہو سکتا ہے پیش او الرز و زمین و آسمان پس تو مشت خاک رمانش مردان اس کے آگے زمین و آسمان از تے ہیں نہیں تو ایک مشت خاک کو اس کی طرح نہ سمجھے گر خدا گوئی منیفی را بزور جان تو گوید گذابی دکور ریکی کو تیلی کو بر روی خاک بھی دے تو تو میرا دل بول اٹھے گا کہ تو جھوٹا اور ان دا ہے ولی نمی داند خدا مجد آل خدا ایں نہیں افتاد فطرت ذابتدا نے الا اے سی ای او کے کسی اور کو تسلیم نہیں کرنا شرو ع سے انسانی اور ہی طرح واقعہ ہوتی ہے از رو کین و نصب دور شو یک نظر از صدق کن چه نور خو کینہ اور تعصب کی راہ کو چھوڑ دے صدق سے غور کر اور روشن دل ہو جا میں ریاض عقل را ویران کند عاقلان سا گره به نادان کند کینہ اور تعصب عقل کے باغ کو اجاڑ دیتے ہیں اور عقلمندوں کو گمراہ اور بیوقوت بنا دیتے ہیں کے بشر گرد و ندا نے لا ینال داوری را کم کن اے حمید خلال ایک انسان کسی طرح غیر نانی خدا بن سکتا ہے اسے گنا ہی کے شکار جھگڑا