دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 206

رجہ ہے تر کشی از پیش خود تصویر او خالق او می شوی اسے تیره هو تو اپنی طرف سے اس کی تصویر کھینچتا ہے اور اسے بد باطن آپ اُس کا خالق بنتا ہے ه و از کار خود بود نما است آن خدا نے ان خود از دست است۔روہ جو اپنے فضل سے اپنا جلو دیکھا رہا ہے خدادہ ہے کہ وہ مجھے ہمارے انھوں نے بنایا ہے ے سن کر یں جہاں مولائے ماست آنکه قرآن اورج او جابجا است مایع اے قائم ہمارا مولا مری ہے جس کی قریب قرآن نے جا کا کی ہر جو قرای گفت می گوید سما چشم کشا تا به بینی این قیا ہو کچھ قرآن نے کہا وہی آسمان بھی کہتا ہے آنکھ کھول ہو کر تو اس روشنی کو دیکھے کیس میں تیرے بود اسلام را کو نماید آن مانے تمام را اما اسلام کو یہی فخر تو حاصل ہے کہ وہ اس کامل خدا کو پیش کرتا گویش تانسل که امنش عیاں نے تراشند از خودش بول دیگراں وہ اسی طرح کہتا ہے جو ان کی محنت سے ظاہر ہے دوسروں کی طرح اپنے پاس سے کوئی خدا نہیں تہ انتا غیر کلم خود تراشد پیکرش خود راشد قامت و یا دوسرش غیر سفر اس کے موجود و خود تراشتا ہے۔وہ آپ ہی اس کا قد اور پیر اور سر جویز کرتا ہے خود تراشیدہ نے گردد خدا ہمچو طفلال بازی است و اخترا خود تراشیده وجود خدا نہیں ہو سکتا وہ تو بچوں کا کھلوتا ہے اور بھٹ ہیں تراشیدان جہا نے شد تباہ کرکے موٹے بھائی دوست ماه سے ھوتے بر ماه اس خدا تراشی کی وجہ سے ایک جوان برباد ہو گیا اور کسی کو بچے قد کا لامت نہیں کا