دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 148

۱۳۸۔بروزه فشاند از تو نورے ہر قطرہ براند از تو انتصار ہر قره تیر انور پھیلاتا ہے۔ہر قطرہ تیری توصیف کی تریں ہاتا ہے ہر شوز عجائب تو شورے ہرجانہ غرائب تو از کار با تیرے عجائبات کا ہر طرف شور ہے اور تیرے غرائب کا ہر جگہ ذکر ہے از یاد تو نور را به ببینم ! در حلقه عاشقان خونبار میں تیرے ذکر کی برکت سے اتوار رکھتا ہوں آہ و زاری کرنے والے عاشقوں کی جماعت میں آنکس که به بند عشقت افتاد دیگر نشنید پند اختیار و شخص ہو تیری قید محبت میں گرفتار ہو گیا۔پھر اس نے دوسروں کی نصیحت نہ سنی اسے موتی ہاں چودستانی که خود بر بودیم به یکبار ے میرے موتیں جان ، تو کیسا واستاں ہے کہ دفعتاً تو نے مجھے مدہوش کر دیا انہ یاد تو این دئے یہ فر فرق دارد گرے نہال صدف وار تیری یاد میں میرا دل غم میں فرق ہو کہ صرف کی طرح ایک موتی اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے۔چشم و سرنا خدائے رویت جان و ولی ما بتو گرفتار میری آنکھ اور سر مجھ پر قربان ہیں اور میرے جان و دل تیری محبت میں قید عشق تو به نته جان خرید می تا دم نه زند دگر خریدار ہم نے نقد جان دے کر تیر ائلش خریدا ہے۔کہ پھر اور کوئی خریدار دم نہ مار سکے غیر انہ لو کہ سرزد سے زعیم در برج دلم نماند دیار تیرے مواد کون میرے گریبات میں سے تمہار ہوتا جو میرے دل میں اور کوئی بہنے والا ہی نہیں ا