دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 121
۱۳۱ اینکه آوای قلب و اطمینان جز با خیار صادقان متواری کیونکہ سکون دل اور امینان قلب راست بازوں کی برائیوں کے سوا پیدا نہیں ہو نیز همان واحدی است در تعلیم که بقدر خرد بود خرد بود تفسیر بدال نیز جو کہ تمیم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دا شاگرد کی مستقل کے مطابق سمجھایا جائے لا جرم رو کشادہ اند دو تا تا رسد ہر طبیعتے بخدا اس لئے دو راستے کھول دیئے گئے ہیں۔تاکہ ہر طبیعت کا انسان خدا تک پہنچ سکے انکی و غیبی واشرت دوں وہ بی بند ہوئے آں ہے جہاں ذہین اور نبی شریف اور ازدیل اس بے مثل خدا کی طرف راہ نہیں دیگر این است نیز هم بیراں پر تورات و حتی آل رحمان اور دلیل بھی اس رحمان وحی کی ضرورت پر یہ ہے کو چنین شربت خدائے لگاں ہرگز از جمد معقل با توان خدائے واحد کی اس قدر شہرت صرف عقلوں کی کوشش سے نہیں ہوسکتی کر نہ گھٹتے خدا انا الموجود چون فتاڑے جہاں برش بسجود اگر خدا خود ہی نہ کنتاکہ میں موجود ہوں تو سارا جہاں اس کے سامنے سر بسجود کیوں ہوتا این همه شور مستی آن یار که انه عالم ست عاشق زار که انه عالم۔اس بات کی ہستی کے متعلق اس شور سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا عالم خود بینداخت اس خدائے جہاں تہ بشر کرد بر سرش احسال یہ دشور ابھی رب العالمین نے خود ہی ڈالا ہے نہ کہ آدمی نے اس پر احسان کیا ہے۔سر عاشق زار ہے