دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 122
لیے آدمی ے دریع این چه او می دادند که خدا در خودی پیشاوندا افسوس یہ کیسے انسان میں جو خدا کو چھوڑ کر خودی میں پڑ گئے ستقل حل شد و فیمین وحی نه بود دیده را نه آفتاب بست و جود جب وجہی کا فیضان ہی نہ تھا تو عقل کہاں سے آگئی آنکھ کا جو تو آفتاب کی دیر سے ہے وجود اور اگر نور خود نہ بخشید سے اگر چشم ما خود بخود جہاں دیدے اگر سورج اپنا اور نہ دنیا تو ہماری آنکھ خود بخود کس طرح دیکھ سکتی بیل اور فیض گل سخن آموخت سنگ از ے جہاں کے چشم دوخت کے فیضان سے مل نے بات کرتا دکھی دی تی اس اس سے منکر ہو تا ہے جو اپنی آنکھیں بند کر کے به عالم گوا و آرایش ابله منکر نیز وحی و الفلدیش ہمہ خدا کی نعمتوں کا گواہ ہے۔لیکن بے وقوت خدا کی چی اور الفا کا منکر ہے ماکان بجان خود نشان تا شوی جان من هم اند پاکان اپنے دل میں پاک لوگوں کی محبت بڑھا تا کہ اسے جان من تو بھی پاکوں میں داخل ہو جانے ایس خود جملہ خلق سے دارند ناز کم کن که چوں تو بسیالند عقل تو ساری مخلوقات کے پاس ہے اس پر نماز نہ کر کیے کو تیرے جیسے بہت ہیں چاره ما بغیر یار کجا ما کجائیم و عقل نار کجا اما یاد کے سوا ہمارا اور کیا سوا ہمارا ملاح اور کہاں ہے ہماری مہستی کیا اور ہماری کمزور عقل ہی دبیر فرقت بشی و ناکامی باز منکر ز دمی و الهامی تو جدائی کا زیر سنگھ رہا ہے اور نا مراد ہے اس پر بھی وجیہ السلام سے منکر ہے د