دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 61

Y از چنے دنیا مجریان از خدا اس میں باشد نشانی اشتیا | ہے کے لیے خدا سے تعلق توڑنا۔یہی بدبختوں کی علامت ہوں خود ستایش حق بر کسے دل نے ماند و نیایش ہے جنب خدا کی کسی پر صربانی ہوتی ہے۔تو اُس کا دل دُنیا سے اکھڑ جاتا ہے آرش کی کہی جاگ جائے خداست یا خدام اش برون آخوند است تبردار ہو کہ یہ دیا تو سرائے فانی ہے۔باخد ابن جیا کیونکہ آخر کو خدا سے ہی معاملہ بر قاتل گر دوست خود خوری | امن جہاں دانم که تو دانشوری | اگر تو اپنے ہاتھ سے ہی زہر قاتل کھائے تو میں کیونکر سمجھوں کہ تو عقلمند ہے اس رونے میں که از خود انیاندا یان شان در گفتند و بانی اما ان لوگوں کو جدیکھ جو فانی ہیں۔اور خدا کے کلام پر جان چھڑکتے ہیں تاریخ افتاده ز نام بود و جاه ا لاول زرکت واز فرق افتاده کلاه۔نام اموات اور وجاہت سے فارغ ہو گئے۔دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گرگئی دور تر از خود به یاد آمیخته آمد و از بهر روئے ریختہ خودی سے دور ہو کر باہر سے دراصل ہوگئے۔اور اسل رحسین چہرہ کی نما روت و آرد کی پڑھانہ کی دیدن نشان می د بریا و از خدا صدق و سرتال در جناب کبریا ان کو دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے۔کیونکہ وہ خدائے کیریا کی جناب میں پہنتیاز ہیں تونه استکبار سریز آسمان باز ده بیرون زرا و بندگان میرا تو ستر کبر سے آسمان تک پہنچا ہے اور بندوں کے راستہ کو تو نے چھوڑ دیا ہے