دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 209
دید ای شان سے وہ یا داخل صدق در زال در جناب کبریا ان کے دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے خدا کے لیے انہوں نے صدقی دوفا اختیار کیا ہے آن مجمد له ابو و قرا ر ہیرے کے تلال در شدہ بچوں ڈورے ان سب لوگوں کا رہنما قرآن ہی تھا اور اس دروازہ کی برکت سے ان میں سے ہر ایک موتی کی طرح ہو گیا اس ہمہ زال دیر سے جان یافتند جاں چہ باشد روئے جاناں یافتند سب نے اسی محبوب سے زندگی حاصل کی۔زندگی کیا خود اس محبوب کو پا لیا چشم شان شد یاک از شرک و فساد شد دل شال منزل رب العباد شرک اور فساد سے پاک ہو گئی اور ان کا دل رب العالمین کا گرین سید شال آنکه نامش مصطفی است سیر بر زمره صدق و صفا است ان لوگوں کا سردار دہ ہے جس کا نام مصنفنتے ہے تمام اہل صدق و صفا کا وہ ہی پہنچا ہے۔سے درخشند روئے بھی دو رو سے اُو ہونے می آید زبام د کوئے اُو اس کے چھرہ میں خدا کا چہرہ چکھتا نظر آتا ہے اس کے درودیوار سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔سر کال د میری بود سے تمام پاک رونی و پاک رویان علا امام در الامام ر بیری کے تمام کمالات اس پر ختم میں خود بھی مقدس ہے اور سب مقدموں کا الہام سے اسے خدا اسے پارہ آزاد ما کی شفاعت ہائے اُو در کار بار 16 اسے نہ اسے بہار کی تکلیفوں کی دوا ہمارے معاملہ میں اس کی شفاعت نہیں نصیب کر ابر که هرش در دل و جان فقد ناگہاں جانے در ایمانش مقتد جس کے جان ودل میں اس کی بیعت داخل ہوجاتی ہے تو کیا اس کے بیان میں ایک جان پڑ جاتی ہے