دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 202
٢٠٢ محدود شکر اس خدائے کردگار کور بودش سر محمد سے انکار اس مندائے کردگار کی تھے اور شکر واجب رہے ہیں کے وجود سے ہر چیز کا وجود تظاہر این جہاں آئینہ والہ رونے او فره فتره رو نماید سوئے اُو یہ چھائی اس کے چہرے کے لیے آئینہ کی طرح ہے ذرہ ذرہ اسی کی طرف راستہ دکھاتا ہے کرد در آینه ارض و سما آل شیخ بے مثل خود جلوہ نما دیکھوں دیا اس نے زمین و آسمان کے آئینہ میں اپنا بے مثل پھرہ ہر گیا ہے عارف جنگاو او دست برشنا نے نماید راہ اور تھ اس کا ہر تہ اس کے کون دکان کی معرفت رکھتا ہے اور در نینوں کی ہر شاخ اسی کا راستہ دکھاتی ہے۔گور مرومه ر فیضی نور اوست هر طور سے نتابع منشور اوست ان اور سورج کی روشنی اسی کے امر کا فیضان ہے ہر چیز کا ظہور سی کے شاہی خوان کے تحت ہو تاہے۔ہر سرے مہر نے انفلوت گاہ او ہر قدم بویید در با جاؤ او ہر شہر اس کے اسران خان کا ایک بھید ہے اور ہر قدم اسی کا باعظمت دروازہ تلاش کرتا۔مطلب مرال بجمال روسے اوست کمر ہے گر بہت بہر کوئے دوست ی کے دن کا جال ہر ایک دل کا مقصود ہے ورک کی گرا رہی ہے وہ بھی اس کے کچھ کیا کاش میں ہے کرد ماه و انجیر و خاک آفرید صد ہزاراں کرد منفتها پدید اس نے چاند سورج ستارے اور زمین کو پیدا کیا اور لاکھوں صنعتیں ظاہر کر دیں این مهم منعش کتاب کا برا دوست ہے نہایت اندرین سرابی است یہ اس کی یہ تمام مناسبیاں اس کی کاریگری کا دفتر ہیں اور ان میں ان کے لیے انتہا اسرار میں نہیں