دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 201

ینکه نمیدست نظیرش سروش مصطفے ہمارا پیشوا اور کردار ہے جس کا ثانی فرشتوں نے کبھی نہیں که خدا مثل رخش تا فرید که ریش خون بر عقل و ہوش ایا ہے کہ دانے اس کے چہرہ ہیں اور کیا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایرانی برای ما با ما ورود کھڑا و من دیں حملہ برو می کند حیف بود گر بندہ نوش۔شمی دیں اس پر حملہ کرتا ہے شرم کی بات ہوگی اگر میں خاموش بیٹھا رہوں چوں سخن سفلہ بگوشم رسید در دل من ناست پر بهتر خودش در من جب کمینہ دشمن کی بات میرے کان میں پہنچی تو میرے دل میں قیامت کا بوش پیدا ہوتا چند توانم کہ سیکیسے کنم چند کند صبر دلِ زہر نوش کب تک میں میر کرتا رہوں زہر اپنے سالا دل کب تک میر کر سکتا ہے اس یہ مسلمان نیز از کافرست کش نبود از لئے ہیں پاک پوش و شخص مسلمان نہیں بلکہ کافروں سے بھی بدتر ہے جسے اس پاک نبی کے لیے غیرت نہ ہوں جهان شود اندر و پاکش خدا خرده همین است گر آید گوش اس کے پاک نیب پر ہماری جان قربان ہو مبارک بات یہی ہے اگر ننے میں آئے سکون در پالے عزیزش رود بار گران است کشیدن بردوش وہ سر جھہ اُس کے مبارک قدموں میں نہ پڑے صفت کا بوجہ ہے جسے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے وان گروه انتشارات بعد شم منو موده ے یہ سعدی کا شعر قدر سے تعمیر کے ساتھ ہے۔