دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 89

نیر لیکن انیست بخشش یزدان تا نه بخشند یافتن مقوال لیکن یہ خدا کی بخشش ہے جب تک ادھر سے مہربانی نہ ہو۔ اپنی کوشش سے یہ بات نہیں ملتی ان کسان را عطا شود به خدا کنه کنند خودی شوند برها یر نام خدا کی طرف سے ان لوگوں کو عطا ہوتا ہے ہم خودی کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں حکیم کلام حتی برونده ونه فرامین او برول نشوند خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلتے ہیں اور ا س کے فرمانوں سے باہر نہیں ہوتے دیگر سے رائے دہند ایں جا اور دہندش ثبوت آں بنما آن بنما اور لوگوں کو یہ مقام نہیں ملتا اگر ملتا ہے تو ثبوت پیش غیر سالوں وفا و مهر کجا نه بدر خشک است نهایت مقلا میر ہیں وہ وفا اور محبت کہاں ہو سکتی ہے عقلمندوں کا انتہائی مقام زید خشک ہے حافلانی که بر خورد نازند نازند به خبر از حقیقت و رازاند معقلمند جو اپنی عقل پر نازاں ہیں در اصل وہ حقیقت اور رخدائی ، رازوں سے بے خبر ہیں سمجھ گورے سپید کردہ ہیروں اندروں پر زحمت گونا گوں انھوں نے تیروں کی طرح اپنے ظاہر کو نفی کر رکھا ہے اور باطن طرح طرح کی گندگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مر خدا را چو سنگ داده قرار ها چه از نطق و ساکت از گفتار دا تعالیٰ کو ایک پتھر کی طرح سمجھ رکھا ہے۔ جو بولنے سے عاجزہ اور گفتار سے محروم ہے آل خدا نے که حتی د قوم است از و شان یک وجود مو بوم است قیوم ہے ۔ ان کے نزدیک ایک وهمی وجود ہے وہ خدا جو حتی و قیوم