دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 83

٨٣ تاز شور و فغان عاشق زار خلق گردد نه خواب خود بیداری تاکہ اس عاشق زار کے شور و فعال سے مخلوق اپنی نیند سے جاگ اٹھے تا شناسند مردمان بره راست تا بدانند منکران که خداست ہیں کہ لوگ پیدھے راستے سیدھے راستے کو پہچا نہیں اور منکر بھان لیں کہ خدا موجود ہے این چنین کس پر رو ند یہ جہاں پر جہاں عظمتش کنند بیاں: ایسا شخص جب دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔ تو خدا اس کی عظمت کو جہان پر ظاہر کر دیتا ہے چون بیاید بهار باز آید موسم لاله نداره بانه آید جب وہ آتا ہے تو موسم بہار پھر آجاتا ہے اور گلزار کا موسم لوٹ آتا ہے وقت دیدار یار بانه آید بے دلاں را قراره بانه آید یار کے دیدار کا وقت لوٹ آتا ہے ۔ اور عاشقوں کو قرار آ جاتا ہے باو روئے نگار باز آید خور به نصف النهار باز آیدا معشوق کا چاند سا چہرہ نظر آنے لگتا ہے اور سورج نصف النہار پر واپس آ جاتا ہے۔ باز خندد باز لاله و گل بانه خیزد نه بلبلال فلفل لالہ اور گلاب پھر ہنسنے لگتے ہیں۔ اور مجھیلیں پھر چھانے لگتی ہیں دست غیبش به پر درد نه کرم صبح صدقش کند۔ ظهور اتم خدا کا فی ہاتھ منوانی سے پرورش کرتا ہے اور اس کی سچائی کی صبح کامل طور پر ظاہر ہوتاہے نویر الهام بیجو باد صبا نزدش آرد و غیب خوشی ها العام کا نور باد صبا کی طرح نیب سے اس کے پاس خوشبوئیں لاتا ہے